اے پیارے امجد!
ہمارے امجد!
کہاں گئے ہو
ہم اپنی اپنی روانیوں میں کہاں پہ پہنچے
تم اپنی دھن میں کہاں چھپے ہو
یہ کس سے پوچھیں
تھکن سفر کی ہمارے پیروں سے دل تک آئی
تو مڑ کے دیکھا
مڑ کے دیکھا تو
تم نہیں تھے ، کہاں چھپے ہو!
اے پیارے امجد!
ہمارے امجد
سبھی کے امجد
تم تو بھائی یہیں کہیں
اس ہجومِ یاراں کے بیچ بیٹھے کوئی لطیفہ سنا رہے تھے
نہ جانے کس شام کی اتھا میں
اتر گئے ہو
بھلا کوئی اس طرح بھی جاتا ہے جانِ یاراں!
بلا کے ڈرامہ نگار ہو تم
ہنسی ہنسی میں رلا گئے ہو
ہماری آنکھوں سے آنسو ٹپکے تو ہم نے جانا
کہ جیسے تم
اشکِ ہجر بن کر
ہماری آنکھوں کی پتلیوں پر ہی جم گئے ہو
اے پیارے امجد!
ہمارے امجد!
سبھی کے امجد
